بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا مصنوعی بال لگا کر نماز ادا کرنا

سوال

مرد کا مصنوعی بال لگا کر نماز ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر ضرورت ہو اور  جسم کے کسی حصہ کے بال اُسی شخص کے جسم کے دوسرے حصہ میں لگادیئے جائیں یا خنزیر کے علاوہ کسی جانور کے بال ہوں تو اس کی گنجائش ہے، پھر اگر لگائے گئے بال جسم سے اس طرح ملصق ہوجائیں کہ علیحدہ نہ کیے جاسکیں تو ان پر مسح وغیرہ درست ہوجاتا ہے اور نماز بھی ان کے ساتھ درست ہے اوراگر جسم سے چپکے ہوئے نہ ہوں، بلکہ علیحدہ ہوجاتے ہوں کہ جب چاہیں ان کو الگ کرلیں تو ان بالوں پر مسح وغسل درست نہ ہوگا، بلکہ ان کو اتار کر مسح وغسل واجب ہوگا ۔

اگر وہ بال دوسرے شخص کے یا خنزیر کے ہوں تو ان کو لگانا لگوانا جائز نہیں ہے ۔  اور مصنوعی وگ لگانے میں اگر کسی کو دھوکا دینا مقصد ہو تو یہ بھی درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200520
تاریخ08-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں