بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم ترکہ 1 بیوہ 3 بیٹیاں 6 بھائی اور دو بہنیں

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں  ایک بیوہ، 3 بیٹیاں، چھ بھائی اور دو بہنیں ہیں، ان  میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

کیا بےروزگار یا غیر شادی شدہ بھائی یا بہن کو باقی بھائی بہنوں پر ترجیح یا زیادہ حصہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں مرحوم  کے کل ترکہ میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی کل ترکہ کے ایک تہائی سے پورا  کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ کو 1008 حصوں میں تقسیم کرکے 126 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 224 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ، 30 حصے مرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور 15 حصے ہر ایک بہن کو ملیں گے، یعنی 100 روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے مرحوم کی بیوہ کو، بائیس عشاریہ دو دو روپے ہر ایک بیٹی کو ، دو عشاریہ نو سات روپے ہر ایک بھائی کو اور ایک عشاریہ چار آٹھ روپے ہر ایک بہن کو ملیں گے۔

2۔ ملحوظ رہے کہ ورثاء کے حصے کیوں کہ اللہ رب العزت نے خود قرآنِ مجید میں نازل فرمائے ہیں، اس وجہ سے کسی بھی وارث کے حصہ میں کمی زیادتی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، البتہ شرعی حصص کے مطابق تقسیم کے بعد جو ورثاء دلی رضامندی سے اپنے حصے میں سے کسی کو زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200515
تاریخ08-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں