بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ اگر آپ میرے بغیر ماں کے گھر رہی یا وہاں نہانا دھونا کیا تو میں اس کو طلاق سمجھوں گا‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ بولے تھے کہ اگر آپ میرے بغیر ماں کے گھر رہی یا وہاں نہانا دھونا کیا تو میں اس کو طلاق سمجھوں گا۔ کیا میں ان الفاظ پر اللہ سے معافی مانگ کر اسے وہاں یہ کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔طلاق سے بچنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی آپ کے بغیر اپنی ماں کے گھر رہے یا وہاں نہانا دھونا کرے تب بھی مذکورہ الفاظ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200506
تاریخ08-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں