بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اخراجات مشترک ہونے کی صورت میں ایک بھائی کا اپنی تن خواہ سے جائے داد خریدنا

سوال

اگر چند بھائی مشترکہ رہتےہوں اور سب کا کھانا پینا علاج اور دیگر ضروریات مشترک ہوں اور ان میں ایک بھائی اپنی تن خواہ سے مکان یا پلاٹ وغیرہ خرید لیتا ہے، اور گھر پر تن خواہ نہیں دیتا تو کیا مذکورہ جائے داد صرف خریدنے والے کی ہوگی یا اس میں دوسرے بھائی بھی شریک ہوں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ملازمت کرنے والے بھائی کی تن خواہ اس کی اپنی ملکیت ہے، اگر وہ اس سے اپنی کوئی جائے داد خریدتا ہے تو وہی ا س کا مالک  ہے، دوسرے بھائی اس میں شریک نہیں ہوں گے، باقی گھر کی ضروریات میں جو خرچہ اس کے ذمہ لازم ہے، اس سے اس کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200494
تاریخ07-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں