بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں صف سیدھی کرنے کا طریقہ

سوال

 میں جماعت کے وقت قدموں کی طرف سے صف درست کرنے کا صحیح طریقہ جاننا چاہتا ہوں۔ میرے علم میں اس حوالے سے تین طرح کے طریقے آئے ہیں۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ کون سا طریقہ درست ہے۔ میں تینوں طریقے نیچے لکھ دے رہا ہوں:

 ١. اپنے قدموں کی انگلیوں کے کناروں کو اس قدر آگے یا اس قدر پیچھے رکھا جائے کہ جس قدر اپنے برابر والے نمازی نے اپنے قدموں کی انگلیوں کے کناروں کو آگے یا پیچھے رکھا ہے۔

 ٢. اپنے قدموں کی ایڑیوں کے کناروں کو اس قدر آگے یا اس قدر پیچھے رکھا جائے کہ جس قدر اپنے برابر والے نمازی نے اپنے قدموں کی ایڑیوں کے کناروں کو آگے یا پیچھے رکھا ہے۔

 ٣. اپنے قدموں کے ٹخنوں کو اس قدر آگے یا اس قدر پیچھے رکھا جائے کہ جس قدر اپنے برابر والے نمازی نے اپنے قدموں کے ٹخنوں کو آگے یا پیچھے رکھا ہے۔

جواب

صف سیدھی کرنے کا طریقہ ہے کہ  ٹخنے  اور ایڑھیاں پیچھے سے برابر کرکے کھڑے ہوجائیں،  صف سیدھی ہوجائے گی، آگے سے انگلیوں کو برابر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ایڑھیاں برابر کرنے سے ٹخنے خود ہی تقریباً برابر ہوجائیں گےاور اس کے ساتھ مونڈھا مونڈھے (کندھے) کی سیدھ میں رکھیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 568):
"ويسووا مناكبهم ويقف وسطاً".
البحر الرائق  (1/ 374):
" وإن تفاوتت الأقدام صغراً وكبراً فالعبرة بالساق والكعب". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200465
تاریخ06-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں