بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی میں موجودہ قیمت کا اعتبار ہے

سوال

گزشتہ پانچ سالوں سے میں نے اپنی اہلیہ کے زیورات کی زکات  نہیں ادا کی،  اب جب پانچ سال بعد میں اکٹھی ان کی زکات دینا چاہتا ہوں تو کیا اس پرانی قیمت کا اعتبار ہوگا یا فی زمانہ جو ابھی موجودہ قیمت ہے اس کا اعتبار ہوگا ؟

جواب

اگر گزشتہ سالوں کی زکات ادا نہیں کی تو جس دن زکات ادا کی جائےاس دن کی جو قیمت ہے، اس قیمت کا اعتبار ہو گا، یعنی گزشتہ سالوں کی زکات موجودہ ریٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی۔اور زکات یوں اداکریں گے کہ: مثلاً دولاکھ روپے سونے کی مالیت ہے تو پہلے سال کی پانچ ہزارزکات  اداکردیں،  پھر اگلے سال ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے کی اداکریں، اسی طرح بقیہ سالوں کی زکات اداکریں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 22):

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200447
تاریخ04-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں