بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرائض و نوافل کے سجدہ میں دعا مانگنا

سوال

فرض یا نفل نما زکے سجدہ میں دعائیں مانگ سکتے ہیں ؟

جواب

امام کو چاہیے کہ مقتدیوں کی رعایت رکھتے ہوئے فرض نماز کے رکوع اور سجدہ میں صرف مسنون تسبیحات  پر ہی اکتفا کرے،  ہاں اگر مقتدیوں کی چاہت ہو کہ رکوع اور سجدے طویل ہوں یا انفرادی طور پر فرض نماز ادا کررہاہو تو  ماثور دعائیں پڑھنے  یا عربی میں دعا مانگنے کی اجازت ہے۔ 

باقی نوافل کے سجدے میں تسبیحات کے ساتھ ماثور دعائیں مانگنا بہتر ہے، اسی طرح دیگر دعائیں بھی مانگ سکتے ہیں، بشرطیکہ عربی زبان میں ہو ں اور ایسے امور سے متعلق ہوں جو مخلوق سے نہ مانگے جاسکتے ہوں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200445
تاریخ04-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں