بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے دعائیں پڑھنے کا حکم

سوال

کیا جماعت کی نماز میں جب درمیان میں امام صاحب تسبیحات وغیرہ پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ہم پڑھ چکے ہوں تو کیا ہم عربی یا اردو میں دعا مانگ سکتے ہیں؟

جواب

نماز کی مختلف حالتوں میں  احادیثِ مبارکہ  میں جو  مختلف اذکار و دعائیں وارد ہوئی ہیں فقہاءِ احناف نے ان تمام اذکار و ادعیہ کو فرائض کے علاوہ نوافل میں مسنون قرار دیا ہے۔ لہٰذا نوافل ہی میں ان کا اہتمام کرنا چاہیے، اور  نوافل میں بھی یہ دعائیں عربی زبان میں ہی مانگنی چاہییں، اردو میں دعا کرنا درست نہیں۔

ہاں! اگر مجمع زیادہ نہ ہو اور  مقتدیوں میں ضعیف نہ ہوں یا مقتدیوں پر بوجھ نہ ہوتاہو اور امام نماز لمبی پڑھاتا ہو (یا امام معتدل نماز پڑھاتا ہو لیکن مقتدی تین تسبیحات روانی سے پڑھ لے) جس سے مقتدی کو دعائیں پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے تو رکوع و سجود میں عربی دعائیں پڑھنے کی اجازت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 505):
"(وليس بينهما ذكر مسنون، وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، وكذا لايأتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح (على المذهب) وما ورد محمول على النفل".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 506):
"(قوله: محمول على النفل) أي تهجداً أو غيره خزائن. وكتب في هامشه: فيه رد على الزيلعي حيث خصه بالتهجد. اهـ. ثم الحمل المذكور صرح به المشايخ في الوارد في الركوع والسجود، وصرح به في الحلية في الوارد في القومة والجلسة وقال: على أنه إن ثبت في المكتوبة فليكن في حالة الانفراد، أو الجماعة والمأمومون محصورون لايتثقلون بذلك كما نص عليه الشافعية، ولا ضرر في التزامه وإن لم يصرح به مشايخنا فإن القواعد الشرعية لاتنبو عنه، كيف والصلاة والتسبيح والتكبير والقراءة كما ثبت في السنة".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200440
تاریخ04-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں