بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شک کی وجہ سے نماز دہرانا

سوال

میں الحمدللہ بلوغت سے نماز کا پابند رہا ہوں، میری 29 سال عمر ہوگئی، اب درمیان میں اگر کوئی نماز رہ گئی ہو اور قضا نہیں کی اور مجھے یاد بھی نہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا میں احتیاطاً اندازے سے کچھ نمازیں پڑھ سکتا ہوں؟ نیز جن نمازوں کے بارے میں شک ہو کہ درست ہوئی یا نہیں ان کا احتیاطاً اعادہ کرسکتے ہیں؟

جواب

آپ اس کا اندازہ لگائیں کہ کب آپ کی نماز قضا ہوئی  اور کتنی؟  پھر جو غالب گمان ہو اس کے مطابق ان کی قضا کرلیں۔  نیز جن نمازوں کے بارے میں یہ یقین  ہو کہ کسی غلطی کی وجہ سے وہ نماز غلط ہوئی اور اس غلطی کی وجہ سے اس کا دہرانا بھی شرعاً واجب ہو تو ان نمازوں کو دہرائیں۔ محض شک کی بنیادپر نمازیں دہرانے   کی ضرورت نہیں۔ استغفار کی کثرت اور سنن و نوافل کی ادائیگی کرتے ہیں، فرائض میں جو کوتاہی ہوگی وہ استغفار سے معاف اور نوافل سے پوری کردی جائے گی۔ (کما ورد فی الحدیث) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200409
تاریخ02-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں