بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرندے پالنا

سوال

 پرندے وغیرہ پالناکیساہے، جب کہ میں اس کی دیکھ بال بھی کرتاہوں؟  لیکن والدہ کہتی ہیں  کہ ان کوبیچ دو اورپیسے مسجد میں دو. جب کہ میری خواہش ہے کہ ان کو آزاد کردوں! برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمادیں میں کیاکروں؟

جواب

پرندے اس شرط پر پالنا شرعاً جائز ہے کہ ان کے کھانے پینے کا مکمل خیال رکھا جائے،  یا ان کو کچھ وقت کے لیے آزاد چھوڑا جائے کہ وہ اپنے کھانے پینے کا خود انتظام کر سکیں۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے پرندے پالنا بھی جائز ہے اور انہیں فروخت کرکے ان کی قیمت استعمال کرنا بھی جائز ہے۔ اور انہیں آزاد کر دینا بھی جائز ہے۔ اور والدہ کے کہنے پر انہیں فروخت کر کے رقم مسجد کی تعمیر میں دینا بھی جائز ہے، اور مسجد میں دی گئی رقم آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوگی۔اگر آپ کو رقم کی زیادہ ضرورت نہیں ہے تو یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200400
تاریخ02-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں