بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغہ لڑکی ایام حیض میں قرآن کیسے حفظ کرے؟

سوال

بالغ لڑکی قرآن مجید حفظ کر رہی ہو اور ماہ واری آ جائے تو قرآنِ مجید پڑھنے کی گنجائش ہے؟ اور اگر ہے تو کتنی؟  اور طریقہ کار تحریر فرما دیں!

جواب

ایام حیض میں خواتین کے لیے قرآنِ کریم کو  بلاحائل چھونا اور اُس کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر بھولنے کا اندیشہ ہو اور پڑھنا ضروری ہو تو ایک ایک کلمہ کرکے پڑھ لینا جائز ہے، ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کپڑے وغیرہ سے قرآن مجید کو کھول کر اس میں دیکھتی رہے، اور دل دل میں ہی دہراتی رہے، زبان سے تلفظ نہ کرے۔

"عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي صلی الله عليه وسلم قال: لاتقرأ الحائض و لا الجنب شيئاً من القرآن". (باب ما جاء في الجنب و الحائض أنهما لايقرآن القرآن، رقم الحديث: ١٣١، ط: دار السلام)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 293):
"(قوله: وقراءة قرآن) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً كما قدمناه".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200384
تاریخ01-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں