بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جب تک شوہر طلاق نہ دے، میاں بیوی کے جدا رہنے سے جدائی نہیں ہوتی

سوال

 ایک عورت اپنی غیر ضروری اور غیر شرعی شرائط کی وجہ سے ماں کے گھر میں ناراض ہوکر بیٹھ جائے اور شوہر وہ شرائط پورا کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا ہو تو کیا شریعت میں اس کے لیے کچھ عرصہ ہے کہ اس کے بعد اس کی طلاق ہو یعنی دو تین یا چار سال کے بعد؟

جواب

جب تک شوہر اپنی بیوی کو خود زبانی یا تحریری طلاق نہ دے یا بیوی شرعی اصولوں کے مطابق اپنے شوہر سے خلع نہ لے اس وقت تک نکاح برقرار رہتا ہے، چاہے وہ دونوں سالہا سال جدا ہی کیوں نہ رہتے ہوں، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے اپنے میکے میں رہنے کی وجہ سے رشتہ نکاح ختم نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200379
تاریخ01-01-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں