بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے دوران سلام کرنے کا حکم

سوال

کھانا کھانے کے دوران سلام کرنا کیسا ہے؟میں اکثر آفس کے لنچ ٹائم میں لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے سلام کرتا ہوں، مجھے اکثر لوگوں نے منع کیا ہے کہ کھانے کے دوران سلام نہیں کرتے جب کہ وہ تمام لوگ کھانے کے دوران دنیا کی ساری باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔

جواب

فقہاء نے لکھا ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام کرنا مکروہ ہے، ہاں! اگر گزرنے والا کھانے کا محتاج ہو  اور اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کو کھانے پر بلا لیا جائے گا تو ایسی صورت میں سلام کرنا مکروہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 415):
"(قوله: كآكل) ظاهره أن ذلك مخصوص بحال وضع اللقمة في الفم والمضغ، وأما قبل وبعد فلايكره؛ لعدم العجز، وبه صرح الشافعي، وفي وجيز الكردري: مر على قوم يأكلون إن كان محتاجاً وعرف أنهم يدعونه سلم وإلا فلا اهـ. وهذا يقضي بكراهة السلام على الآكل مطلقاً إلا فيما ذكره". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200369
تاریخ31-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں