بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں دوسری جماعت کرانے کا حکم

سوال

ایک مسجد میں دوسری جماعت کر اسکتے ہیں؟جیسا کےدورانِ سفر میں،یا اپنے شہر پہنچ کر اپنی مسجد میں؟

جواب

واضح رہے کہ محلہ کی وہ مسجد جس میں باقاعدہ امام و مؤذن مقرر ہو  ایسی مسجد میں ایک بار جماعت سے نماز ہوجانے کے بعد دوسری جماعت کرانا جائز نہیں ہے، البتہ راستہ کی وہ مسجد جس میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں, وہاں دوسری جماعت کرانے میں حرج نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200355
تاریخ30-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں