بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غروب کے وقت تلاوت کرنا

سوال

غروبِ آفتاب کے وقت قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں؟

جواب

غروبِ  آفتاب کے وقت قرآن شریف کی تلاوت کرنا ممنوع نہیں ہے، بلا کراہت جائز ہے۔ البتہ (طلوع ،غروب  اور استواءِ شمس) ان اوقاتِ مکروہہ میں قرآن شریف پڑھنے کے بجائے درود شریف ،تسبیح وغیرہ ذکر ﷲ میں مشغول رہنا زیادہ افضل اور اولیٰ ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلي"۔ (2/488)فقط و ﷲ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200344
تاریخ29-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں