بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نیت اقامت سے متعلق بہشتی زیور میں مذکور ایک مسئلہ کی وضاحت

سوال

"بہشتی زیور" میں یہ مسئلہ لکھا ہے:

"مسئلہ:کوئی شخص پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے، مگر دو مقام میں اور ان دو مقاموں میں اس قدر فاصلہ ہو کہ ایک مقام کی اذان کی آواز (لاؤڈ سپیکر کے بغیر) دوسرے مقام پر نہ جا سکتی ہو تو اس صورت میں وہ مسافر ہی شمار ہوگا"۔

یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

بہشتی زیور میں تحریر مسئلہ کی عبارت درج ذیل ہے:

"کوئی شخص دو الگ الگ جگہوں پر پندرہ دن ٹھہرنے  کی نیت کرے اور ان دونوں میں اتنا فاصلہ ہو کہ ایک جگہ کی اذان کی آواز دوسری جگہ نہ جا سکتی ہو، مثلاً: دس روز مکہ میں رہنے کا ارادہ کرے اور پانچ روز منی میں، جبکہ مکہ سے منی تین میل کے فاصلے پر ہے تو اس صورت میں وہ مسافر ہی شمار ہوگا۔ (کتاب الصلاۃ، ١/ ٣٤٤، ط: الحجاز کراچی)

مذکورہ مسئلہ درست ہے اور اس کا تعلق ایک شہر کے مختلف علاقوں سے نہیں ہے، بلکہ اس مسئلہ کا تعلق دو مختلف شہروں، یا ایک شہر اور دوسرے شہر سے باہر گاؤں وغیرہ میں ٹھہرنے کی نیت کرنے سے ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200331
تاریخ29-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں