بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ان جرابوں پر مسح کا حکم جن کے تلوؤں پر چمڑا ہو

سوال

ان جرابوں پر مسح کا کیا حکم ہے  جن کے صرف تلوؤں پر چمڑا ہو ؟

جواب

ایسے موزے جو پورے چمڑے کے ہوں (یعنی خفین) یا ان کے اوپر اور نچلے دونوں حصوں میں چمڑا ہو  (یعنی مجلدین) یا جن کے صرف  نچلے حصے میں چمڑا ہو (یعنی منعلین) ان پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ دیگر شرائط پائی جاتی ہوں، یعنی ٹخنوں سمیت پاؤں کو چھپائے ہوئے ہوں، ان میں زیادہ پھٹن نہ ہو اور پاکی کی حالت میں پہنے ہوں وغیرہ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200329
تاریخ29-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں