بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے لین دین کا حکم

سوال

ہماری  تجارت غیر مسلم شہریوں سے ہوتی ہے جن  میں ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔اب ہماری ایک کاروباری ڈیل ایک شخص کے ساتھ ہوئی ہے، مگر ہم کو معلوم ہوا ہے کہ وہ احمدیہ  جماعت سے منسلک ہے،  اور احمدی ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے۔کیاایسے لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے اہم ترین عقیدہ ’’عقیدہ ختمِ نبوت‘‘  ہے،  جس پر ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں، جب کہ قادیانی نہ صرف یہ کہ اس عقیدہ کے منکر ہیں، بلکہ ختمِ نبوت کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کو پیغمبر تسلیم کرتے ہیں،ملکی آئین کی رو سے یہ گروہ غیر مسلم ہے اور شرعی لحاظ سے قادیانی چوں کہ کافر محارب اور  زندیق ہیں، اس بنا پر ان کے ساتھ کاروباری معاملات  کرنا جائز نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم

نوٹ: مزید تفصیل اور اس موضوع پر تفصیلی مواد کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیٹریچر کا مطالعہ  فرمائیں ۔جوکہ ان کی ویب سائٹ پر بھی بآسانی دست یاب ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200321
تاریخ28-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں