بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نوافل میں قعدہ اولی میں درود شریف پڑھنا

سوال

بعض علماء سے سنا ہے کہ نوافل میں قعدہ اولیٰ میں بھی درود پڑھ لینا چاہیے، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

آپ نے جو مسئلہ سنا ہے وہ درست ہے، اس کی مزید تفصیل یہ ہے:

سنتِ غیر موکدہ  اور نوافل کی ہر دو رکعت مستقل نماز ہوتی ہے،اگر چار رکعت سنتِ غیر مؤکدہ یا نوافل پڑھ رہے ہوں تو   اس میں افضل یہی ہے کہ  دوسری رکعت کے قعدہ کے بعد درود اور دعا پڑھیں، اور تیسری رکعت میں ثنا اور تعوذ وتسمیہ بھی پڑھیں، تاہم اگر دوسری رکعت کے قعدے میں التحیات کے بعد درود اور دعانہیں پڑھی یا تیسری رکعت کے شروع میں ثنا نہیں پڑھی تو بھی نماز ادا ہوجائے گی، اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں آئے گا، نیز کراہت بھی نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200302
تاریخ27-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں