بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابیہا نام رکھنا

سوال

ہم اپنی بیٹی کا نام "ابیہا"  رکھنا چاہتے ہیں، ہم گھر والے تو اس کے تلفظ کا پورا خیال رکھیں گے، تاہم اگر کوئی صحیح تلفظ نہ کرے  "ابیہہ"  کہہ دے تو کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟

جواب

 ’’ أَبِيْهَهْ‘‘ کے معنی باب سمع و فتح سے سمجھ دار ہونے کے آتے ہیں، جیساکہ معجم الرائد میں ہے:

"أبه : (فعل) 1- أبهه : نبهه ، فطنه".

یہ نام رکھ سکتے ہیں، البتہ نام کا صحیح تلفظ کا خیال خود بھی رکھیں اور دیگر احباب کو بھی تلقین کریں، عربی لغت کے اعتبار سے ’’ابیہہ‘‘  تلفظ کے ساتھ نام بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200256
تاریخ24-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں