بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بیٹے کا میراث میں سے حصہ

سوال

میرے بیٹے نے مدت  رضاعت میں میری  والدہ  کا دودھ  پیا، اب وہ میرا بیٹا اور میرا رضاعی بھائی  بھی ہوا،  معلوم یہ کرنا تھا کہ  کیاحقیقی بیٹوں کے ہوتے ہوئے وہ  میرےوالدین کی جائیدادکاوارث ہوگا؟ اگرہوگا تو اس کا کیاحصہ ہوگا؟

جواب

میراث کا حق نسبی رشتہ میں ہوتا ہے، رضاعی رشتہ سے کوئی شخص میراث کا حق دار نہیں ہوتا،  لہذا آپ کے بیٹے کے لیے اپنی رضاعی ماں (یعنی آپ والدہ اور اس  کی دادی) کی میراث میں کوئی حق وحصہ نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200223
تاریخ22-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں