بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں بچوں کے آگے سے گزرنے کا حکم

سوال

اگر بچہ نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے آگے سے گزرسکتے ہیں؟ کیوں کہ بسا اوقات بچے ایسی جگہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے آگے سے گزرنا ضروری ہوتا ہے، مثلاً وہ پچھلی صف میں ایسی جگہ ہوتے ہیں کہ اگلی صف میں جانے کی جگہ نہیں ہوتی ہے اور گزرنے کی صورت میں کیا اس بچے کے والدین گناہ گار ہوں گے جنہوں نے اسے کم عمری میں مسجد بھیجا ہے؟

جواب

اگر اگلی صف میں جانے کے لیے بچے کے آگے سے گزرنا ضروری ہو اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو گزرسکتے ہیں گناہ گار نہیں ہوں گے، بچہ خود ایسی جگہ کھڑا ہوا تو اس کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے بچے کے والدین گناہ گار نہیں ہوں گے، بلا ضرورت بچوں کے آگے سے بھی نہ گزراجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200209
تاریخ21-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں