بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کے عقیقہ میں دو جانور کیوں ؟

سوال

ایک تحریرنظر سے گزری  جس میں عقیقہ کرنے کے حوالے سے بتایا گیا تھا اور لکھا تھا کہ لڑکے کی ولادت پر دو بکرے اور لڑکی کی ولادت پر ایک بکرے کا عقیقہ ہونا چاہیے۔ کچھ لوگوں زیادہ تر خواتین نے یہ سوال اٹھایا کہ لڑکی کے لیے ایک بکرا کیوں؟ تو آپ تھوڑی سی روشنی اس پر ڈالیں گے کہ ایسا کیوں ہے ؟

جواب

اصل تو اس بارے میں نبی کریم ﷺکا فرمان اور آپ کی احادیث ہیں ،اور مقصودعمل ہے، اور عمل حکمتوں کے ظاہرہونے پر موقوف نہیں ہونا چاہیے۔ شریعت کے احکامات میں مصلحتیں اور حکمتیں ضرور پوشیدہ ہوتی ہیں ، لیکن انسان اپنے عمل کے لیے دارومدار ان چیزوں کو نہ بنائے۔عقیقہ میں لڑکی کے لیے ایک جانور اور لڑکےکے لیے دوجانوروں کا ذبح ہوناحدیثِ مبارک میں نبی کریم ﷺکاحکم ہے۔

نیز لڑکے کے عقیقہ میں دو لازم نہیں، بلکہ مستحب ہے، لہٰذا ایک جانور ذبح کیاجائے تب بھی عقیقہ کیسنت اداہوجائے گی۔اور بعض روایات میں خود نبی کریم ﷺسے بچے کے عقیقہ میں ایک جانور کا ذبح کرنا بھی ثابت ہے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200171
تاریخ19-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں