بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد رقم وقف کرنا

سوال

نقدی کو ہی بطورِ وقف کے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو کیا مالکی مسلک پر عمل کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ کیوں کہ میرے علم کے مطابق ان کے ہاں درہم ودینار بطور وقف جائز ہے۔

جواب

نقد رقم کو وقف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، وقف کے لیے ضروری ہے کہ اصل کو باقی رکھتے ہوئے اس کے منافع سے استفادہ کیا جائے جب کہ نقد کو استعمال کیے بغیر استفادہ ممکن نہیں ہے، فقہ مالکیہ کے صحیح  مذہب کے مطابق بھی نقد کا وقف جائز نہیں ہے۔ علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ رقم طراز ہیں :
’’ وجملته أن ما لایمکن الانتفاع به مع بقاء عینه کالدنانیر والدراهم والمطعوم والمشروب والشمع وأشباهه لایصح وقفه، في قول عامة الفقهاء وأهل العلم، إلا شیئاً یحکٰی عن مالک والأوزاعي في وقف الطعام أنه یجوز ولم یحکه أصحاب مالک ولیس بصحیح؛ لأن الوقف تحبیس الأصل وتسبیل الثمرة؛ وما لا ینتفع به إلا بالاتلاف لا یصح فیه ذٰلک‘‘. (المغني:۸؍۲۲۹) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200162
تاریخ19-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں