بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آنکھیں بند کرنا

سوال

نماز کے اندر آنکھ بند کرنا کیسا ہے؟  اگر بند نہ کرے تو توجہ ہٹ جاتی ہے، اگر بند کرلے تو توجہ پھر صحیح ہوتی ہے؟

جواب

آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے،البتہ اگر آنکھیں بند کرلینے سے خشوع اور عاجزی زیادہ ہوتی ہے تو مکروہ نہیں، تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 343):
"ويكره أن يغمض عينيه في الصلاة ؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن تغميض العين في الصلاة ؛ ولأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة ؛ ولأن كل عضو وطرف ذو حظ من هذه العبادة فكذا العين".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200151
تاریخ18-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں