بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم سے ادھار لینا،بینک کی تنخواہ بچے پر خرچ کرنا

سوال

(۱)غیر مسلم سے ادھارلے کرنیکی کے کسی کام میں لگاسکتے یا کسی کاروبار میں لگاسکتےہیں ؟

(۲)اپنے بچے پربینک کی تنخواہ سے دینی تعلیم یعنی حفظ قرآن کراسکتےہیں؟

جواب

(۱) غیر مسلم سے ادھار رقم لے کر نیکی کے کام میں صرف کرنا یا کاروبار میں لگانا جائز ہے۔

(۲) بینک کی تنخواہ حلال نہیں؛ لہذا اسے بچے کی تعلیم و تربیت میں صرف کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

 اگر اس سوال کا مقصد بینک کی تنخواہ کو غیر مسلم سے قرض لے کر حلال کرنے کا حیلہ کرنا ہو تو واضح رہے کہ یہ حیلہ شرعاً درست نہیں،اس سے حرام آمدن حلال نہیں ہوتی۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200150
تاریخ18-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں