بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پولیو کے قطروں کا حکم

سوال

پولیو کے بارے میں آپ سے پوچھنا ہے کہ آپ کے ادارے کی معلومات کے مطابق اس میں کوئی مضر یا حرام چیز تو شامل نہیں ہے؟

جواب

پولیو  یا اس جیسی دیگر  بیماریوں کی ویکسینز کے سلسلے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کردے کہ یہ مضر صحت نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی  ناپاک چیز ملی ہے تو ان کا پلانا جائز ہے۔

 لہذا اس سلسلے میں دین دار ماہر ڈاکٹروں کی تصدیقات کی طرف رجوع کیا جائے، ہمارے ادارے سے شرعی مسائل کا جواب دیاجاتاہے طبی لحاظ سے تحقیقات کے لیے متعلقہ بااعتماد لوگوں کی جانب رجوع فرمائیں۔اس بارے میں ہمارے ادارے سے شائع ہونے والے ماہنامہ ''بینات''میں ایک مضمون بھی شائع ہوچکاہے جو مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کرسکتے ہیں:

http://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%92-%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B0%D9%85%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200144
تاریخ18-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں