بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے ایام کے علاوہ بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ ملانا

سوال

کیا قربانی کے دنوں کے علاوہ بھی عقیقہ کے حصے بڑے جانور میں ڈالنا جائز ہے؟

جواب

قربانی کے دنوں کے علاوہ بھی بڑے جانور میں عقیقے کے لیے حصہ رکھاجاسکتاہے۔شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن اگربڑا جانور ایک ہی بچے کی طرف سے ہو تو پورا جانور عقیقہ میں ذبح کرنا لازم ہے اور اگربڑے جانور میں  متعدد بچوں کی طرف سے عقیقہ کریں تو ان کے حصوں کا حساب لگا لیا جائے، کہ ایک جانور میں سات حصے سے زائد نہ ہوں ۔

 فتح الباری میں ہے :

"والجمهور على أجزاء الإبل والبقر أيضاً وفيه حديث عند الطبراني وأبي الشيخ عن أنس رفعه يعق عنه من الإبل والبقر والغنم ونص أحمد على اشتراط كاملة وذكر الرافعي بحثاً أنها تتأدى بالسبع كما في الأضحية، والله أعلم ". (9/593دارالمعرفہ)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200129
تاریخ17-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں