بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق سے متعلق سابقہ جواب کی مزید وضاحت

سوال

مسئولہ سوال جس کا حوالہ نمبر 144003200471 ہے، اس کے دیے گئے جواب میں برائے مہربانی مزید وضاحت فرما دیں .

1: جو طلاق واقع ہو گی وہ ایک ہو گی یا تین؟

2: اگرجس کو طلاق واقع ہوئی ہے تو کیا اسی سے تجدیدِ نکاح ہو گا یا اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح ضروری ہو گا ؟

3: کیا ایک نکاح کے بعد طلاق واقع ہونے پر یہ شرط مکمل ہو گئی اور اب وہ اس شرط سے آزاد ہے کیا؟اور کہیں بھی شادی کر سکتا ہے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی؟

جواب

1۔ مذکورہ صورتِ حال میں ایک طلاق واقع ہو گی۔

2۔ محض تجدیدِِ نکاح کافی ہو گا، یعنی میاں بیوی کے درمیان مہر مقرر کرکے شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح ہوگا، کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا ضروری نہیں ہو گا۔

3۔ جی ہاں! اب وہ کسی عورت سے بھی شادی کر سکتا ہے، کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200095
تاریخ15-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں