بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر نکاح کا حکم

سوال

 ایک لڑکے اور لڑکی نے فون پر نکاح کیا، لڑکے کے پاس 2 ایسے گواہ موجود تھے جو لڑکی اور لڑکے کو پہچانتے بھی ہیں،  لڑکا لڑکی دونوں نے گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کیا موبائل کا سپیکر کھلا تھا تو کیا ان دونوں نکاح شرعاً درست ہے؟

جواب

اگر دولہا، دولہن اور گواہ میں سے کوئی ایک  بھی نکاح کی مجلس میں موجود نہ ہو، اور نہ ہی دولہا، یا دولہن نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا ہو، جو وکیل اس مجلسِ نکاح میں موجود ہو، تو اس صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ صرف موبائل پر قبول کہہ دینا کافی نہیں۔ مسئولہ صورت میں سوال سے واضح ہے کہ لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود نہیں تھی، اور اس نے اپنا وکیل بھی نہیں بنایا تھا جو مجلسِ نکاح میں موجود ہوتا، لہٰذا مذکورہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا۔

"وشرط حضور شاهدین الخ ، سامعین قولهما معًا علی الأصح". ( الدر المختار ۳ ؍ ۷۵ بیروت )فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200088
تاریخ15-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں