بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک شریک رقم لگائے اور دوسرا شریک نفع کے بعد اپنے حصے کی رقم ادا کرے تو کیا حکم ہوگا؟

سوال

زید عمرو بکر مشترک سودا کرتے ہیں، لیکن اس میں عمرو کے پاس نقد رقم موقع پر نہیں ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں بعد میں ادا کروں گا، مطلب بیعانہ کے پیسے بھی نہیں ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عمرو کا اس سودا میں منافع لینا صحیح ہے کہ نہیں؟

جواب

صحیح ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200074
تاریخ14-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں