بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحم اور راحم نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا میں اپنے بیٹےکا نام أَرْحَمْ یا  رَاحِم رکھ سکتا ہوں؟

جواب

"أرحم" کا معنی ہے:" زیادہ رحم دل"۔ ایک حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو  "أرحم أمتي" یعنی امت کا سب سے زیادہ رحیم شخص کہا گیا ہے۔ اور "رَاحِم" کی بجائے عربی زبان میں "رَحِیْم"کا لفظ  استعمال ہوتا ہے جس کا معنیٰ ہے : "رحم کرنے والا"۔ یہ بھی اچھا معنیٰ ہے؛  اس لیے "ارحم" اور "رحیم"  نام رکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200067
تاریخ13-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں