بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نان نفقہ کی مقدار

سوال

نان و نفقہ کی مکمل تعریف فرما دیں،دیں، نان و نفقہ میں کیا کیا آتا ہے؟

جواب

نان نفقہ سے مراد وہ خرچہ ہے جو کہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو فراہم کرے، اس میں اس کا کھانا پینا، رہائش، اور کپڑوں کی ضروریات شامل ہیں۔ اور اس کی مقدار کی تعیین دونوں کے عرف پر ہے، شرعاً کوئی مقدار مقرر نہیں ، بلکہ متوسط اعتبار سے خرچ کرنا شوہر پر لازم ہے۔ یہ اس وجہ سے لازم ہے کہ بیوی اس  کے لیے اس کے گھر میں  محبوس ہے۔

شامی 2/897 باب النفقہ:

"أنها جزاءاً لاحتباس، وکل محبوس لمنفعة غیره یلزمه نفقته کمفتي وقاضٍ ووصي" . ( الدر المختار مع الشامي ۵ ؍ ۲۸۱-۲۸۲)

"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، کبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، کذا في الجوهرة النیرة". ( الفتاویٰ الهندیة، کتاب الطلاق / الباب التاسع عشر في النفقات ، الفصل الأول ۱ ؍ ۵۴۴) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200049
تاریخ13-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں