بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر پڑھے بغیر عید پڑھنا

سوال

ہمارے یہاں عید کے دن یہ مسئلہ بیان ہوا کہ جس نے عید کے دن فجر کی نماز نہیں پڑھی اس کی عید کی نماز نہیں ہوگی، کیا یہ درست ہے؟ اگر درست نہیں ہے تو پھر ایسا غلط مسئلہ عوام کے درمیان کیوں مشہور ہے؟

جواب

یہ بات واضح ہے کہ فجر کی نماز فرض ہے اور عید کی واجب ہے،لہذا فجر کی نماز زیادہ اہمیت کی حامل ہے، لیکن فجرکی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں بھی عید کی نماز ادا ہوجائے گی ۔ 

"وفي الحجة: وإذا قضی صلاة الفجر قبل صلاة العید لابأس به، ولولم یصل صلاة الفجر لایمنع جواز صلاة العید …" ( الفتاوی التاتارخانیة، ۲ / ۷۵ ) 
’’ إذا قضی صلاة الفجر قبل صلاة العید لابأس به، ولولم یصل صلاة الفجر لایمنع جوازصلاة العید …" ( الهندیة، ۱ / ۱۵۰ ) 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200045
تاریخ12-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں