بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

الکحل کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

 الکحل یا الکحل ملی چیزوں کی خریدوفروخت کرناکیساہے؟

جواب

کھجور اورانگور سے بنے الکحل کی خریدوخت جائز نہیں اور اس کا اشیاء میں استعمال بھی جائز نہیں ۔  اس کے علاوہ  الکحل کی خریدوفروخت طبی اورصنعتی مقاصدکے لیے جائز ہے،  لیکن نشہ یا کسی اور ناجائز غرض کےلیے جائز نہیں ہے۔جس چیز میں انگور اورکھجور کے علاوہ الکحل شامل ہواس کابیرونی استعمال جائز ہے،  اورخوردنی استعمال اس وقت جائز ہے جب وہ نشہ آور نہ ہو اورمقصد لہوولعب نہ ہو۔  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200035
تاریخ12-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں