بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے لوگو والے چائنہ کے موبائل وغیرہ بیچنا

سوال

میں موبائل کا کام کرتا ہوں، اور میں چائنہ  سے سیم سنگ اور آئی  فون کی کاپی اکسیسریز چارجرز اور کیبلز اورہینڈز فری منگواتا ہوں، کیا ان کے  لوگو کے ساتھ چیزیں بیچنے میں گناہ تو نہیں؟

جواب

اگر مذکورہ چیزیں بیچتے وقت خریدار کو  بتادیا جائے کہ یہ لوگو والی کمپنی کی نہیں  چائنہ کی ہے یا خریدار کو معلوم ہو تو اس صورت میں شرعاً گنجائش ہے،  البتہ اگر ایسی تجارت قانوناً منع ہے تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور اگر خریدار کو علم نہ ہو تو شرعاً یہ جھوٹ اور  دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے؛ اس لیے جائز نہیں  ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200013
تاریخ10-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں