بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کی قضا کا کتنی عمر سے تخمینہ لگائیں؟

سوال

جب نماز قضا کریں تو کتنی عمر سے تخمینہ لگائیں؟ سات سال سے یا بارہ سال سے؟

جواب

نماز کی فرضیت شرعاً بلوغت سے ہے،  اس سے پہلے جو حکم دیا گیا ہے وہ نماز کی  عادت بنانے کے لیے دیا گیا ہے؛ اس لیے نمازوں کی قضا کا حساب بلوغت سے ہی لگایا  جائے گا ، اس سے پہلے کی قضا شرعاً لازم نہیں، اور بلوغت کا تعلق علامات بلوغت ظا ہر ہونے سے ہے؛ لہٰذا جو لڑکا یا لڑکی جس عمر میں بالغ ہو اس وقت سے جو نمازیں چھوٹ گئیں ہوں ان کی قضا ضروری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200006
تاریخ10-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں