بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شہنشاہ نام رکھنا

سوال

"محمد شہنشاہ" نام رکھا جا سکتا ہے؟

جواب

"شہنشاہ" نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں یہ نام رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل يسمى "ملك الأملاك". رواه البخاري . وفي رواية لمسلم: قال أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه رجل كان يسمى "ملك الأملاك" لا ملك إلا الله".
ترجمہ: " اور حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے۔ (بخاری)
اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین اور سب سے بدتر وہ شخص ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے، یاد رکھو اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004200005
تاریخ10-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں