بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کی اجازت کے بغیر حج یا عمرہ کرنا

سوال

والدین کی اجازت کے بغیر حج یا عمرہ کیا جا سکتا ہے کہ نہیں یا ان دونوں عبادتوں پہ کوئی اثر پڑے گا؟

جواب

اگر حج فرض ہے تو حج کے لیے والدین سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی جانا ضروری ہے۔ اور اگر حج فرض نہیں تو ایسے حج اور عمرے کے لیے والدین سے اجازت لے کر جانا زیادہ بہتر ہے، بلکہ اگر والدین کو خدمت کی ضرورت ہو تو اُن کی اجازت کے بغیر نفلی حج اور عمرہ کے لیے جانا مکروہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 220):
"ويكره الخروج إلى الحج إذا كره أحد أبويه إن كان الوالد محتاجاً إلى خدمة الولد، وإن كان مستغنياً عن خدمته فلا بأس". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200487
تاریخ10-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں