بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کی نذر ماننا

سوال

کیا شکرانہ کے طور پر نفلی عمرہ کیا جا سکتا ہے کسی منت کے لیے؟

جواب

سوال سے اگر یہ مقصد ہے کہ کوئی شخص کسی کام کے ہوجانے پر عمرہ کی نذر /منت مانے، تو اس کا حکم یہ کہ عمرہ کی نذر منعقد ہوجاتی ہے، اور اس کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔

اور اگر مقصد یہ ہے کہ نذر مانے بغیر صرف کسی بھی کام کے شکرانہ کے طور پر نفلی عمرہ کیا جائے تو  یہ بھی جائز ہے، البتہ یہ ذمہ میں لازم نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (2/ 65):
"ولو جعل عليه حجةً أو عمرةً أو صوماً أو صلاةً أو صدقةً أو ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا ففعل لزمه ذلك الذي جعله على نفسه ولم تجب كفارة اليمين فيه في ظاهر الرواية عندنا".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200465
تاریخ08-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں