بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا بغیر محرم کے سفر کرنا

سوال

اگر عورت کو جہاز پر  2 گھنٹے کا سفر اکیلے کرنا پڑے اور اس کے ساتھ کوئی محرم بھی نہ ہو تو کیا وہ مجبوری میں اکیلے سفر کر سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے سفر شرعی میں  محرم کا ہونا ضروری ہے اور سفر شرعی  اڑتالیس میل یعنی تقریباً (۲۴ء۷۷)سوا ستترکلو میٹرہوتاہے؛ لہذا ایسے سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے  چاہے جتنی جلدی سفر طے ہوجائے۔ حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: لایحل لامرأة مسلمة تُسافر مسیرة لیلة إلا ومعها رجلٌ ذو حُرمة منها". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200453
تاریخ08-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں