بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انشورنس کا حکم

سوال

انشورنس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی  بھی قسم کا انشورنس کروانا جائز نہیں۔ اگر کسی نے لاعلمی  میں  کروالی ہو تو فوراً اس کو ختم کروادیا جائے، اور اس پر جو پیسے ملتے ہیں، اس میں سے صرف اس قدر رقم حلال ہے جتنی رقم جمع کروائی گئی ہو، نہ کہ اس سے زائد ۔  اگر یہ وصول ہو جائے تو اس کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} (المائدة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200451
تاریخ07-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں