بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جیلاٹین ملی آئس کریم اور کیک کا استعمال

سوال

 جو جیلاٹین کریم  کیک یا آئس کریم میں استعمال ہوتی ہے وہ حرام ہے؟ کافی علماء کہتے ہیں کہ استعمال کرلیں، کریم اور پاؤڈر کی شکل بن کر استعمال کے قابل ہوجاتی ہے ، راہ نمائی فرمائیں!

جواب

"جیلاٹین" ایک "پروٹین" کا نام ہے جو جان دار کی ہڈی اور کھال سے حاصل کی گئی "کولیجن" سے حاصل کی جاتی ہے، اس کا بنیادی استعمال کھانے پینے کی اشیاء میں گاڑھاپن پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، اسی مقصد کے لیے اسے آئس کریم اور کیک میں استعمال کیا جاتا ہے، اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ "جیلاٹین" اگر حلال جانوروں سے حاصل کی گئی ہو اور اس جانور کو شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو تو ایسی "جیلاٹین" حلال ہے، جس چیز میں اس کا استعمال ہو وہ بھی حلال ہے، اور اگر وہ حرام جانوروں سے حاصل کی گئی ہو،  یا حلال مردار جانور سےحاصل کی گئی ہوتو اس کا استعمال حرام ہے، اور جس چیز میں اس کا استعمال ہو وہ بھی حلال نہیں ہوگی، لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر تحقیق سے یہ معلوم ہوجائے کہ مذکورہ آئس کریم اور کیک میں حرام جیلاٹین استعمال کی گئی ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ حلال جیلاٹین شامل ہے یا معلوم نہ ہونے کی صورت میں کسی مستند حلال سرٹیفکشن کے ادارے کی تصدیق ہو تو اس کا استعمال جائز ہوگا، نیز جب تک معلوم نہ ہو اجتناب بہتر ہے۔

باقی "جیلاٹین" بننے کے عمل میں چیز کی ماہیت نہیں بدلتی؛ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کریم اور پاؤڈر کی شکل بننے کے بعد اس کا استعمال درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144003200443
تاریخ07-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں