بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو طلاقوں کاحکم

سوال

میں نے ایک ساتھ دو طلاق دیں اپنی بیوی کو، کیا دو طلاقیں واقع ہوگئیں؟

جواب

اگر آپ نے طلاق کے لیے لفظِ طلاق ہی کہا تھا تو دو طلاقیں واقع ہوگئیں، آپ عدت تک رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت گزرنے تک رجوع نہ کیا تو  نیا نکاح کرکے ساتھ رہنا ہوگا، اور صرف ایک طلاق کا اختیار رہ جائے گا۔

اور اگراس کے علاوہ کوئی  اور لفظ استعمال کیے ہیں تو اوہ الفاظ لکھ کر پھر سوال کرلیں۔

"عن عبد الله و عن أناس من أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم، فذکر التفسیر-إلی قوله-: الطلاق مرتان، قال: هو المیقات الذي یکون علیها فیه الرجعة، فإذا طلق امرأته واحدة أو ثنتین، فإما أن یمسک ویراجع بمعروف وإما یسکت عنها حتی تنقضي عدتها، فتکون أحق بنفسها". (سنن کبریٰ للبیهقي، کتا ب الرجعة، دارالفکر بیروت ۱۱/ ۲۸۲، رقم:۱۵۵۳۹)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200426
تاریخ06-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں