بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنسی خواہش کو بڑھانے والی ادویات کا استعمال

سوال

میری  شہوت بہت کم ہے، کیا میں اس کے لیے گولیاں استعمال کرسکتا ہوں؟

جواب

اللہ تعالی  نے انسان کو پیدا کیا اور اس میں دو قسم کی قوتیں  ودیعت رکھی ہے، ایک تو قوتِ ملکوتیت ہے یعنی عبادت، ذکر واذکار وغیرہ  کی قوت، اور دوسری  قوتِ بہیمیت یعنی شہوانی قوت ،  اگر قوتِ ملکوتیت  میں  ترقی کرے تو انسان کا مقام فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے، اور انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اسی قوت میں ترقی کرنا ہے یعنی عبادت، اطاعت وغیرہ میں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  

  {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ } [الذاريات: 56]

      ترجمہ:  اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا کہ میری عبادت کیا کریں۔  (از بیان القرآن)

   اور  دوسری قوت یعنی  شہوانی  قوت کو اس لیے ودیعت رکھا ہے کہ انسان  آپس کے تعلق اور قربت پر مجبور ہو، اور اس سے نسل انسانی کا بقا ہو، اور اس کے لیے شریعت نے صرف نکاح کے طریقہ کی اجازت دی ہے، اسی طرح  اگر شرعی اعتبار سے باندی ہو تو اس سے بھی  تعلق قائم کرنے کی اجازت  دی ہے،  ان دونوں طریقوں کے علاوہ  کسی اور طریقے سے خواہشات کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دی، اور اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت میں اپنے فطری وطبعی  تقاضے کی تکمیل کے لیے قدرتی طور پر صلاحیت بھی پیدا کی، اور عام طور پر اس کام کے لیے انسان کو کسی اور  چیز کا محتاج نہیں بنایا، اگر کوئی اس فطری تقاضے میں اس حد تک کمی کاشکار ہو جس سے دوسرے فریق کی حق تلفی کا اندیشہ ہو تو وہ اس قوت کو معتدل حالت پر لانے کے لیے ادویات کا استعمال کرسکتا ہے، مگراس بارے میں کسی مستند معالج سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144003200397
تاریخ04-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں