بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کی رضاعی ماں سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

 آدمی اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اپنی سالی سے جس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہو،  عدت کے بعد نکاح کرسکتا ہے، جب کہ وہ سالی اس کے حقیقی بیٹے کی مرضعہ ہو (یعنی اس شخص کے بیٹے نے اپنی خالہ کادودھ پیا ہو)؟

جواب

جی ہاں! مذکورہ شخص اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اپنی سالی سے (اس کے سابقہ شوہر سے عدت گزرنے کے بعد) نکاح کر سکتا ہے؛ اس لیے کہ مذکورہ بچے کے دودھ پینے کی وجہ سے اس کے باپ کا بچے  کی رضاعی ماں سے کوئی رضاعی تعلق نہیں ہوا؛  لہذا دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں اور نکاح جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200385
تاریخ03-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں