بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کلینک پر زکات ہے؟

سوال

کیا کلینک پر زکات ہے؟

جواب

کلینک کی عمارت پر زکات نہیں ہے،اگر کلینک میں علاج معالجہ کیاجاتاہوتواس صورت میں  مالک/ڈاکٹر کو حاصل ہونے والی آمدنی تنہایادوسرے اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے تو اس رقم پر سالانہ زکات ہوگی۔اور اگر کلینک بناکرکرایہ پر کسی کو دی گئی ہو اس صورت میں بھی عمارت کی مالیت پر زکات نہ ہوگی، بلکہ حاصل ہونے والا کرایہ تنہایادوسرے اَموالِ زکات کے ساتھ مل کر زکات کے نصاب کو پہنچ جائے تو سال گزرنے پر زکات اداکرنالازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200371
تاریخ02-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں