بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اہلِ تشیع اور عیسائیوں کے ساتھ کھانا کھانے کا حکم

سوال

 عیسائیوں اوراہلِ تشیع  کے ساتھ  کھانا کھاناجائز ہےیا نہیں؟

جواب

عام احوال میں  اہلِ تشیع کے ساتھ کھاناکھانا  جائز ہے، البتہ جن شیعہ کے عقائد خراب ہوں ان کی مذہبی تقریبات میں شریک ہوکر ان کے ساتھ کھانا کھانااوردوستانہ رکھنا یا ان کے ساتھ کھانا پینا رکھنے میں اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو  تو  ان کے ساتھ کھانا پینا جائز نہیں ہوگا۔

نیز عیسائیوں کے ساتھ بھی عام احوال میں کھانا کھانا جائز ہے، تاہم بے ضرورت اختلاط سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ اور دلی تعلق و دوستی اور ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200368
تاریخ02-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں