ناراضگی اور بات چیت بند ہونے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوتا
سوال
کوئی 4,5 ماہ بیوی سے کسی بات پر ناراض رہےاور بات چیت بند رکھے اور اس کی ضرویات کو پورا کرتارہے تو نکاح پر تو کوئی فرق نہیں آتا ہے?
جواب
صرف ناراض رہنے اور بات چیت بند کرنے سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا, نکاح بدستور برقرار ہے, البتہ اگر آپس میں کوئی ناچاقی ہو بھی جائے تو شریعت نے تین دن سے زیادہ بات چیت چھوڑنے سے منع کیا ہے، لہذا کسی شرعی وجہ کے بغیر تین دن سے زیادہ بات چیت بند رکھنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144003200367
تاریخ02-12-2018

