بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوت قرآن مجید کی نذر ماننا

سوال

کیا تلاوتِ قرآن کریم کرنے کی نذر منعقد ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ نذر  لازم ہونے کی چند شرائط ہیں، جن کا پایا جانا شرعا  ضروری ہے:

١)  نذر اللہ رب العزت کے نام کی مانی جائے ، پس غیر اللہ کے نام کی نذر صحیح نہیں۔

٢)  نذر صرف عبادت کے کام کے لیے ہو  ، پس جو کام عبادت نہیں اس کی منت بھی صحیح نہیں۔

٣) عبادت ایسی ہو  کہ اس طرح کی عبادت کبھی فرض یا واجب ہوتی ہو، جیسے : نماز ،روزہ ،حج ،قربانی وغیرہ ، پس ایسی عبادت کہ جس کی جنس کبھی فرض یا واجب نہیں ہوتی ہو اس کی نذر بھی صحیح نہیں ۔

صورتِ مسئولہ میں تلاوتِ کلامِ الہی چوں کہ نماز میں فرض بھی ہے اور واجب بھی ہے؛ لہذا اگر کسی نے تلاوتِ قرآنِ مجید کی نذر مانی تو وہ منعقد ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200347
تاریخ01-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں